Peshawar Doctors PDA Strike extended to others districts

Category: Health 14 0

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم پی ڈی اے نے گزشتہ نو دنوں سے اپنے مطالبات کے حق میں شروع کی گئی ہڑتال کا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک بڑھا دیا ہے۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

منگل کو صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں اپنے مطالبات کے حق میں جاری ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔

پی ڈی اے کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر دل آرم کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ان کا احتجاج صرف تدریسی ہسپتالوں یعنی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور، ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد اور اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور تک محدود رہا لیکن حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے پیر سے اس ہڑتال کا دائرہ صوبہ کے دیگر اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ منگل سے تیمرگرہ، دیر لوئیر، ہری پور اور ایبٹ آباد کے اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال کی گئی ہے اور ایک دو دن تک یہ احتجاج پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔

ڈاکٹروں کی طرف سے حکومت کو سات مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن میں تنخواؤں میں اضافہ، فور ٹائر فارمولے کے تحت ترقیاں دینا، نئے سروس سٹرکچر کا قیام، بے روزگار اور ماہر ڈاکٹروں کے لیے نئی آسامیاں پیدا کرنا اور ان کے لیے اعزازیہ کا اجراء کرنا وغیرہ شامل ہے

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی طرف سے حکومت کو سات مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن میں تنخواؤں میں اضافہ، فور ٹائر فارمولے کے تحت ترقیاں دینا، نئے سروس سٹرکچر کا قیام، بے روزگار اور ماہر ڈاکٹروں کے لیے نئی آسامیاں پیدا کرنا اور ان کے لیے اعزازیہ کا اجراء کرنا وغیرہ شامل ہے۔

ان کے بقول جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

ُادھر پشاور کے ہسپتالوں میں احتجاج کے باعث دور دراز کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ایمرجنسی وارڈ میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر حبیب نے بتایا کہ ہڑتال کے باعث مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ہسپتال میں صرف ایمرجنسی کوریج دیا جا رہا ہے جبکہ او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر وغیرہ کئی روز سے بند ہے۔

مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ہڑتال کے باعث پشاور میں اب تک چار مریض، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، زندگی کی بازی ہار چکے ہیں تاہم سرکاری طور پر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

(Published on BBC Urdu Dated May 24, 2011)

Related Articles

Leave a Reply